کاروار:18/جولائی (ایس اؤنیوز)ہندوستانی سائنس دانوں نے ملکی سمندرکے تہہ میں تحقیق کرتے ہوئے پتہ لگایا تھا کہ ملکی سمندر کے گہرائی میں بڑی مقدار میں معدنیات کا خزانہ دستیاب ہے۔ اسی طرح محکمہ اراضی کے سائنس دانوں نے یہ بھی پتہ لگایا تھاکہ کاروا رسمندر کے تہ نشین میں بہت بڑی مقدار میں چونے مٹی کا گاد ( لائم مڈ سڈی منٹ)اور فاسفیٹ گاد(فاسفیٹ سڈی منٹ)پایا جاتاہے۔
2014میں پہلی مرتبہ کاروار، منگلورو، چنئی ، منار ،انڈمان نکوبار اور لکش دیپ کے اطراف سمندری وسائل ہونے کا تحقیق کے ذریعے پتہ لگاتے ہوئے جانکاری دی گئی تھی کہ ملکی سمندر کے 34جگہوں پر فاسفورس کے ذرات پائے جاتے ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشینو گرافی کی طرف سے سمندری تہہ میں تحقیقات ہوئی تھیں۔ اب ہندوستانی اراضی محکمہ کی تحقیقات نے اس کی تصدیق کی ہے۔
فاسفیٹ، ہائیڈروکاربن، میٹالیفرس سمیت بے شمار معدنیات کی دولت سمندری تلچھٹ میں پائی جاتی ہے،سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ آپ سمندر میں جتنی گہرائی میں جائیں گے اتنے ہی وسائل کا پتہ چلے گا۔ گذشتہ 3سالوں سے اس میدان میں تحقیقات جاری ہیں، سمندر کی تہہ میں 181،025مربع کلومیٹر کے رقبہ کا احاطہ کرتے ہوئے جانکاری حاصل کی گئی تھی ۔ اور 10،000ملین ٹن سے زیادہ مقدار میں لائم مڈ دستیاب ہونے کا پتہ لگایا گیا تھا۔ سمندر کی تلچھٹ میں قدرتی وسائل کے ذخیرے کی نقشہ کاری (میاپنگ)کے لئے محکمہ اراضی کے سائنس دانوں نےگذشتہ تین چار سالوں سے 3 تفتیشی جہازوں کا استعمال کرتے رہے ہیں۔ سمدر رتنا کر، سمدر کوستوبھ اور سمدر سودھکم نامی پانی جہازوں کا استعمال کیا گیا ۔
تحقیقات کے ذریعے یہ بھی پتہ لگایا گیا ہے کہ کاروار کے سمندر ی تلچھٹ میں کتنی مقدار میں فاسفورس سڈی منٹ موجود ہے۔ اسناپر کورر:110 پتھوم ۔تہہ میں4-0انچ تک ایک گرام گاد میں 240مائکروگرام کلییئے سیانڈ ،32-28انچ تک ایک گرام گاد میں 220 مائکروگرام کلییئے سیانڈ، 55پتھوم گہرائی میں 4-0انچ تک ایک گرام دُرد میں 240مائکروگرام سلفی سیانڈ سمیت کئی اقسام کی معدنیات کو کھوج نکالاگیا ہے۔ فاسفیٹ کے تودوں کو کیالشیم فاسفیٹ کی تیار ی میں اورجانوروں کی غذا کےلئے بھی استعمال کیا جاتاہے ،فاسفورس کو کیمیائی اشیاء بنانے میں شامل کیا جاتاہے، اسی طرح زراعت کے لئے استعمال ہونے والی کیمیائی کھاد میں بھی اس کو استعمال کرنےکی بات کہی گئی ہے۔